The wrong target?

Editorial The News International

Tens of thousands of people who have fled South Waziristan tell terrifying tales of falling bombs and blocked roads, which placed them at enormous peril as they tried to reach safety. Others speak of houses being destroyed in the Mehsud areas of the tribal agency. The perception of these people is significant. Many IDPs have told the media in interviews that they simply do not believe the Taliban can be defeated through military action. They argue that the bombing raids most badly affect the civilian population rather than the militants. Many are fearful that the fighting in Waziristan could continue for weeks but serve very little real purpose. These people have after all seen similar war before – with the militants each time forcing troops out. They are convinced that this time too things will be the same. Civilians say also that they are caught badly between the two fighting forces and suffer at the hands of both. Amnesty International has expressed concern over the plight of non-combatants caught in a war that is not of their own making. Other international and local right watchdog bodies had also demanded more be done during the war in Swat to keep the civilian population safe. The same holds true in South Waziristan as well.

 Even in a condition of war, international humanitarian rules apply. The requirement that children, women and men be protected is the focal point. The fact that little heed has been paid to these clauses is sad, not only because it means the death of innocent people – such as the family of 12 who died after being hit by a bomb while trying to escape South Waziristan a few days ago; but also because it means the military fails to gain moral authority. It is already obvious the people of Waziristan equate it with the militants – and as a source of the suffering imposed on them. If the military campaign in Waziristan succeeds this time round, and the Taliban are genuinely defeated, the need will arise to win back the loyalty of these people. This will not be easy. Militants have held sway here for years. Alongside the secret negotiations with Mehsud tribesmen and the other efforts to break up backing for the TTP, ordinary people too need to be persuaded that state forces have respect for them and are willing to help them. This can play a key role in deciding which side they take – and their support will be a vital one in winning this war which will not end with the destruction of militant bases.

Advertisements

, , , ,

  1. #1 by zafar iqbal on October 22, 2009 - 6:55 pm

    خارجہ پالیسی کی تبدیلی؛راہِ نجات ہے!
    سید منورحسن
    امیر جماعت اسلامی پاکستان
    پاکستان کے حالات اس قدر تہہ در تہہ شکل اختیار کرگئے ہیں کہ بسا اوقات ڈور کا سرا تلاش کرنا مشکل ہوجاتاہے۔ قوم ابھی جی ایچ کیو پر حملے کے صدمے سے باہر نہیں نکل سکی تھی کہ لاہور ، پشاوراور کوہاٹ سلسلہ وار حملوں کی زد میں آگئے۔قومی اسمبلی کے جاری اجلاس میں اس صورتحال پر بحث کرنے اور کوئی لائحہ عمل وضع کرنے کے بجائے اجلاس کوغیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کردیا گیا۔ کیری لوگر بل کے بارے میں بھی کوئی پتہ نہ چلاکہ وزیر خارجہ کے دورہ واشنگٹن سے اس میںکیا تبدیلی ہوئی۔ سب کچھ ٹھیک ہے کی رٹ لگائے وزیرخارجہ کا کہنا ہے کہ بل غلامی کی دستاویز اور خودمختاری کا سودا نہیں،پاکستانی قوم کے لیے تحفہ ہے۔نائن الیون کی بعد دی گئی امریکی دھمکی کے نتیجے میںبننے والی خارجہ پالیسی کا تسلسل جاری ہے اورخوف اور غلامی کی خو عوامی نمائندگی اورجمہوریت کی دعویدار حکومت کے رگ وپے میں بھی سرایت کرگئی ہے۔اس پالیسی کی بنیاد یہ ہے کہ دوست کو دشمن سمجھو اوردشمن کودوست سمجھ کرگلے لگاؤ، ڈومور کے احکامات کو بجا لاؤاور ہر کہے پر آمنا وصدقنا کہو۔وارآن ٹیرر میں فرنٹ لائن سٹیٹ بن کرپاکستان نے امریکہ کے ساتھ سب سے زیادہ تعاون کیا ہے لیکن اس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ اس وقت ملک کا کوئی سرا محفوظ نہیں ہے۔
    2
    بزدلی پر مبنی اس خارجہ پالیسی کی وجہ سے روایتی حریف بھارت کی غلامی کو بھی قبول کرلیاگیا ہے۔ امریکی ہدایت یہ ہے کہ بھارت سے خطرہ محسوس نہ کرو،فوج کو مشرقی بارڈر سے ہٹا کر مغربی بارڈر پر لے جاؤاور قبائلی علاقوں میں آپریشن کرو۔اس حکم کی تعمیل کی جارہی ہے لیکن سرحد کو خالی پاکربھارت اپنے تمام مگ طیارے مشرقی سرحد پرلے آیاہے،اور وہاں فوج میں اضافہ کررہاہے۔ تازہ ترین اس کا اعلان یہ ہے کہ پاکستانی فوج میں دہشت گردوں سے نمٹنے کی صلاحیت نہیں ہے، اگر بمبئی جیسا حملہ پھر ہواتوہم خود دہشت گردوں پر قابوپائیں گے۔نوبت باین جا رسید کہ اب بھارت بھی نالائقی کے سرٹیفیکیٹ تھما کر پاکستان میں قدم رنجہ فرمانے اوراپنی فوج بھیج کر دہشت گردوں کا قلع قمع کرنے کی دھمکیاں دے رہاہے۔احتجاج تو پاکستان کو کرنا چاہیے تھاکہ حالات کے بگاڑ میں بھارت کا ہاتھ ہے مگرحکومت سب کچھ جاننے کے باوجود اس کانام لیتے ہوئے شرماتی ہے۔رحمان ملک پارلیمنٹ اور آئی جی ایف سی بلوچستان پریس کانفرنس میں کہہ چکے ہیں کہ بھارتی سازشوں کے شواہد موجود ہیں۔ کمشنر لاہورکے مطابق لاہور پر حملوں میں بھارت ملوث ہے۔ لیکن جو خارجہ پالیسی بنائی گئی ہے، اس میں بھارت کا نام لینے کی گنجائش نہیں ہے۔گاہے یہ کہاجاتاہے کہ امریکہ کو بتا دیاہے کہ بھارت پاکستان کو غیر مستحکم کر نے کے لیے پیسہ اور ٹریننگ فراہم کررہاہے لیکن کھل کر بھارت کا نام لینا، اس سے احتجاج کرنااور عالمی برادری میں اس کے سازشی اورمنفی کردار کو بے نقاب کرناہماری خارجہ پالیسی کا حصہ نہیں ہے۔
    (
    پاکستان میں نظر آنے والا بگاڑ اور انتشاراس غیرمتوازن خارجہ پالیسی کا نتیجہ ہے۔ہمارے معاشرے میں ہر طرح کے لوگ موجودہیں۔ دانا وبینابھی اور ان پڑھ بھی، دینی مزاج کے حامل بھی اور سیکولر سوچ رکھنے والے بھی،جو روایتی طور پر اپنی زندگی میں مگن ہیں اوراپنی سوچ اور فکر کے حوالے سے فیصلے کرتے ہیں۔ لیکن ایک قسم اور بھی ہے جو معاشرے کے اندر بڑی تعداد میں موجود ہے اور جسے اس بات پر جھنجلاہٹ ہوتی ہے کہ ہماری آزادی کیوںسلب کرلی گئی ہے،بھارت کی غلامی کیوںاختیار کر لی گئی ہے ،کیری لوگر بل توہین آمیز شرائط کے ساتھ کیوںمنظور ہواہے۔اس طبقے میں اضطراب کی کیفیت ہے۔ بعض لوگ ہم سے سوال کرتے ہیں کہ جس دلدل میں حکمرانوں نے ہمیں پھنسا دیاہے، تقریریں کرکے اس سے نہیں نکلا جاسکتا،ہمیں کوئی راستہ بتائیں۔ معاشرے میں لاکھوں لوگ کسی اور راستے کی تلاش میں ہیں اور بسا اوقات غلط راستے پر چل پڑتے ہیں، دشمن کے ہتھے چڑھ جاتے ہیںتو کیا آپ ان سب لوگوں کوقتل کریں گے۔ ان پر قابو پانے کے لیے ان کی بات اور دلائل سننااور ان دلائل کاجواب دینا اورواقعات کا رخ تبدیل کرنا ضروری ہے۔کچھ لوگ برا مناتے ہیں کہ آپ ’’دہشت گردوں‘‘ کے خلاف کارروائی پر کیوں بولتے ہیں؟ ہم نے بارہایہ بات کہی ہے کہ اصل دہشت گردی توریاستی دہشت گردی ہے،اورریاست ہی مختلف گروہوں کو منظم کرتی ہے۔ ہماری اطلاعات کے مطابق خود کش بمبار کی صورت میں سامنے آنے والے بے شمار لوگوں کی لاشوں کا جب جائزہ لیا گیا تو وہ مسلمان نہیں تھے۔ حکومت اورفوج کو اس کی تحقیق کرنی چاہیے اور حقیقت قوم کو بتانی چاہیے۔ریاستی دہشت گردی کا نام نہ لیا جائے،اوراپنے لوگوں کوطاقت اور بندوق کے زورپر اور امریکہ کے ڈرون حملوں سے ڈرا کردبانے کی کوشش کی جائے تو یہ پالیسی نتیجہ خیز نہیں ہوسکتی ہے۔ طاقت کا مقابلہ طاقت سے کرنے کی وجہ سے حالات مزید خراب ہوتے ہیں اورتباہی و بربادی کے سواکچھ ہاتھ نہیں آتا۔ بالآخر مذاکرات کی میز سجانی پڑتی ہے کہ اس کے سوا کوئی چارہ کار نہیں ہے۔
    حکومت کی طرف سے بارہا یہ بات کہی گئی ہے کہ ہم نے طالبان کی کمرتوڑ دی ہے، دہشت گردوں کے قلعے مسمار کردیے ہےں، ان کی امید کا آخری سہارا بھی ختم کردیاہے لیکن واقعات تو روز ہورہے ہیں اوربڑھتے جارہے ہےں۔جی ایچ کیو پر قبضہ پوری قوم کے لیے سوہانِ روح اوردل ودماغ کے لیے شدید ترین اذیت کا باعث تھا۔سوچنا ہی محال ہے کہ جی ایچ کیو پربھی کوئی قبضہ کرسکتاہے۔ہر کارروائی کے بعد یہ دعوی کرناکہ ہم نے کامیابی حاصل کرلی اوردہشت گردوں کے اہداف کو پورا نہیں ہونے دیا، قوم کو دھوکے میں رکھنے کے سوا کچھ نہیںہے۔ اصولاًتو حملہ ہونا ہی نہیں چاہیے تھا۔انٹیلی جنس ایجنسیوں کو حملہ آور پہلے ہی گرفتار کرلینے چاہیے تھے۔اگر وہ جی ایچ کیو،ایف آئی اے،پولیس اور ایلیٹ فورس کے ٹریننگ سنٹر تک پہنچے ،قبضہ کیا، وہاں کئی گھنٹے تک مقابلہ کیا، آپ کے کئی آفیسر جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔اگرچہ حملہ آور بھی مارے گئے لیکن وہ تو مرنے کے لیے آئے تھے تو آپ کو کیا کامیابی حاصل ہوئی۔ جو واقعات ہوئے ، ہم نے ان کی شدید مذمت اورمعصوم جانوں کے ضیاع پر افسوس کا اظہار کیاہے۔پاکستان میں انتشار کی کیفیت سے صرف دشمن کا دل ہی خوش ہوسکتاہے۔اس صورتحال سے نکلنے کے لیے لازمی ہے کہ خارجہ پالیسی پر نظرثانی کی جائے ۔ دوست کو دوست اور دشمن کو دشمن سمجھے بغیر ایک قدم بھی آگے نہیں بڑھاجاسکتا۔ اسی لیے ہمارا مطالبہ ہے کہ وزیرستان میں آپریشن نہ کیاجائے اورجہاں جہاں آپریشن ہورہاہے اس کو بند کیا جائے۔ مذکرات کاراستہ اختیار کیا جائے اورحب الوطنی پر مبنی خارجہ پالیسی اپنائی جائے۔امریکہ اور بھارت کبھی پاکستان کے دوست نہیں تھے،ان سے تعلقات پر نظرثانی کی جائے اور اس حوالے سے حدود کا تعین کیاجائے۔ امریکہ نے تو دوستی میں ہی جتنا نقصان پہنچایاہے اتنا کوئی دشمن بھی نہیں پہنچاتا۔ مشرقی پاکستان کو بنگلہ دیش بنے چالیس سال ہونے کوہیں لیکن اس کا بحری بیڑہ ابھی تک راستے میں ہے۔اورابھی پاکستان پر دباؤ ڈالا جارہاتھا کہ وزیرستان میں آپریشن کرو، آپریشن شروع تو امریکہ نے افغان بارڈر سے اپنی فوجی چوکیاں ہٹا لیں’ہوئے تم دوست جس کے دشمن اس کا آسمان کیوں ہو‘۔ کیری لوگر بل میں ریاست پاکستان اورعوام کو جوصلواتیں سنائی گئی ہیں وہ کسی دوستی کا پتہ نہیں دیتی ہیں۔ پاکستانی قوم کے احتجاج کے باوجود امریکہ نے اس میںایک لفظ کی بھی تبدیلی نہیں کی۔جیسا بل تھاویسا ہی منظور ہواہے۔قوم جان چکی ہے اور حکمرانوں کو بھی جان لینا چاہیے کہ امریکہ کی دوستی منافقت پر مبنی ہے، اس نے آج تک کسی دوست اور لے پالک حکمران سے وفا نہیں کی بلکہ دوستی کی آڑ میں نقصان پہنچایاہے۔ اسے صرف اپنے مفادات عزیز ہیںاور بھارت اور اسرائیل ہی اس کے اصل دوست ہیں۔
    جماعت اسلامی نے جمعہ 23اکتوبر کوکیری لوگربل کے حوالے سے ریفرنڈم کا اعلان کیا ہے۔ اس کے لیے 5ہزار باقاعدہ پولنگ بوتھ بنائے جائیں گے، کیمپ لگیں گے اور ریلوے سٹیشن، ائیرپورٹ،بس اسٹینڈ،بارایسوسی ایشنوں،یونیورسٹیوں،سکولوں، کالجوں اور بازاروں میں جماعت اسلامی کے کارکن پولنگ باکس لے کر پہنچیں گے اور عوام کی رائے حاصل کریں گے۔جماعت اسلامی کے نزدیک حالات کو تبدیل کرنے کا واحدطریقہ یہی ہے کہ عوام کو منظم کیاجائے،اور ایک قاعدے ، ضابطے اورقانون کے دائرے کے اندر رہ کر جدوجہد کی جائے ۔ اورہم کسی کمزوری یا ضعف کی وجہ سے قاعدے ضابطے کی بات نہیں کرتے بلکہ یہ شریعت کا تقاضا اورہماری پالیسی کا حصہ ہے کہ معصوم جانوں سے نہ کھیلا جائے، غریب آدمی کا استحصال اور نقصان نہ کیاجائے۔ ہماری یہ سوچی سمجھی رائے ہے کہ تحریکوں کی زندگی اور دوام اور ان کی کامیابی کا دارومداران کے پرامن رہنے اور قانون کی پابندی کرنے میں ہے

  2. #2 by Qasim Jan on October 30, 2009 - 6:36 am

    what the referendum of JI did was to provide an easy opportunity of expression to the people of Pakistan; And, they did expressed their views, openly. An eye opener for the rulers… But, who cares for the people..?

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: